وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
جادو کے مافوق الاسباب تاثیر کے قائلین کا کہنا ہے اس آیت سے جادو کی تاثیر ثابت ہے۔ اللہ تعالی کا ارشادہے(( وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّه))ِ ۱۳:۳۸ اور کسی رسول کی بھی طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا
اب جادوکی تاثیر کے قائلین سے ہمدردانہ گذارش ہے کہ وہ بتلائیں کہ نبی اور ساحر میں،معجزہ اور سحر میں فرق کیا رہا؟ نبی معجزہ باذن اللہ دکھاتا ہے اور ساحر سحر باذن اللہ دکھاتا ہے۔معجزہ میں اثر باذن اللہ اور جادو میں اثر باذن اللہ ،نبی اور نبی کا معجزہ حق ہے،جادوگر اور اس کا جادو باطل ،جبکہ یہ دونوں باذن اللہ۔۔۔۔۔؟دراصل الا جو حرف استثناٗ ہے دوطرح سے استعمال ہوتا ہے۔منقطع اور متصل۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۰۲ میں الا منقطع ہے ۔ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ آیت کے پہلے حصے میں میں سحر کی تاثیر کی نفی ہے،یعنی ساحر جادو سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اورالا باذن اللہ میں اللہ کی ذات کا استثنا ہے جس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جادوگر اپنے جادو سے کسی کو بھی تکلیف ونقصان نہیں پہنچا سکتے مگر جب کبھی کسی کو نقصان و ضرر پہنچتا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے پہنچتا ہے،نہ کہ جادو سے۔
ایک اور مثل
وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۶:۸۰
الا منقطع کی یہ ایک اور مثال ہے
((ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے کہا)میں تمہارے ٹہراے ہوے شریکوں سے نہیں ڈرتا،ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے )
سورہ بقرہ کی آیت کی طرح اگر یہاں بھی جادو کے قائلین یہ سمجھ بیٹھیں کہ جادوکی تاثیر کےساتھ انہیں یہ بھی ماننا پڑےگا کہ باوجود شرک ہونے کے بت،مورتی،قبرآستانہ سے بھی باذن اللہ ہو سکتا ہے۔اگر جادو کے قائلین یہاں باذن اللہ نقصان کے قائل نہیں تو
سورہ بقرہ ۱۰۲ میں جادو سے باذن اللہ نقصان کا عقیدہ کیوں؟
+923459123310
جادو کے مافوق الاسباب تاثیر کے قائلین کا کہنا ہے اس آیت سے جادو کی تاثیر ثابت ہے۔ اللہ تعالی کا ارشادہے(( وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّه))ِ ۱۳:۳۸ اور کسی رسول کی بھی طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا
اب جادوکی تاثیر کے قائلین سے ہمدردانہ گذارش ہے کہ وہ بتلائیں کہ نبی اور ساحر میں،معجزہ اور سحر میں فرق کیا رہا؟ نبی معجزہ باذن اللہ دکھاتا ہے اور ساحر سحر باذن اللہ دکھاتا ہے۔معجزہ میں اثر باذن اللہ اور جادو میں اثر باذن اللہ ،نبی اور نبی کا معجزہ حق ہے،جادوگر اور اس کا جادو باطل ،جبکہ یہ دونوں باذن اللہ۔۔۔۔۔؟دراصل الا جو حرف استثناٗ ہے دوطرح سے استعمال ہوتا ہے۔منقطع اور متصل۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۰۲ میں الا منقطع ہے ۔ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ آیت کے پہلے حصے میں میں سحر کی تاثیر کی نفی ہے،یعنی ساحر جادو سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اورالا باذن اللہ میں اللہ کی ذات کا استثنا ہے جس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جادوگر اپنے جادو سے کسی کو بھی تکلیف ونقصان نہیں پہنچا سکتے مگر جب کبھی کسی کو نقصان و ضرر پہنچتا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے پہنچتا ہے،نہ کہ جادو سے۔
ایک اور مثل
وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۶:۸۰
الا منقطع کی یہ ایک اور مثال ہے
((ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے کہا)میں تمہارے ٹہراے ہوے شریکوں سے نہیں ڈرتا،ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے )
سورہ بقرہ کی آیت کی طرح اگر یہاں بھی جادو کے قائلین یہ سمجھ بیٹھیں کہ جادوکی تاثیر کےساتھ انہیں یہ بھی ماننا پڑےگا کہ باوجود شرک ہونے کے بت،مورتی،قبرآستانہ سے بھی باذن اللہ ہو سکتا ہے۔اگر جادو کے قائلین یہاں باذن اللہ نقصان کے قائل نہیں تو
سورہ بقرہ ۱۰۲ میں جادو سے باذن اللہ نقصان کا عقیدہ کیوں؟

No comments:
Post a Comment