سحر کچھ نہیں کر سکتا؟
ہاروت وماروت ملائکہ نہیں تھے اور نہ اللہ کی طرف سے لوگوں کو سحر کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔اللہ فرماتے ہیں کہ(فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ )۲:۱۰۲
(پس وہ لوگ ان دونوں سے وہ چیز سیکھنا چاہتے تھے جس کے زریعے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جادو سے میاں بیوی میں جدائی ڈالی جاسکتی ہے بلکہ ان کا گھٹیاپن اورخباثت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے باطل خیال میں وہ چیز سیکھنا چاہتے تھے کہ جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال سکیں۔اس لئے اللہ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا(وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ) اور وہ (جادوگر)اس(جادو)سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے مگر (تکلیف قانون اسباب کے تحت مشیت الہی کے ساتھ) اللہ کے حکم سے پہنچتی ہے۔ یہاں الاِ استثنا منقطع ہے،متصل نہیں ہے۔مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو جو نقصان بھی پہنچتا ہے وہ اللہ کے اذن و مشیت اور قضا سے پہنچتا ہے۔کوئی بھی مخلوق اسباب کے بغیر کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی ہے اور نہ کوئی جادوگر اپنے جادو سے کسی کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ نفع اور نقصان پہنچانے اور سارے کے سارے اختیارات صرف اللہ ہی کے پاس ہیں۔ بَل لِّلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا ۱۳:۳۰
(بلکہ تمام(اختیارات)اللہ کے پاس ہیں)
اذن کے معنی اللہ کے حکم اور قانون کے ہیں۔اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہےکہ جادوگر ’’باذن اللہ‘‘ یعنی اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے لوگوں کو مافوق الاسباب اپنے جنتر منتر سے نقصان پہنچا سکتاہے یا مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال سکتاہے تو یہ غلط سمجھتا ہے کیونکہ اللہ نے سحر کو کفر،شیطانی فعل،جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے۔اب اگر اللہ خود ہی اس کے کرنے کا حکم دے اور ساتھ ہی اس کے ذریعے نقصان پہنچانے کا اختیار بھی دے تو پھر اس کا کرنا اور اس کے زریعے نقصان پہنچانا اللہ کے حکم کی تعمیل ہوگی اور یہ کام باعث ثواب ہوگا نہ کہ کفر اور قابل مواخذہ۔
اللہ کہتے ہیں ۱۸:۲۶ ’’وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا‘‘ تو پھر جادوگر کو کیسے شریک بنا لیا؟
اللہ کہیتے ہیں ۲۰:۶۹ ’’جادوگر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوگا‘‘
اگر بالفرض اللہ جادو میں اثر ڈال کر اس کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچائے تو پھر تو جادوگر اپنی مراد کو پہنچ گیا جب کہ یہ بات درجہ بالا آیت کے خلاف ہے۔
دل میں مافوق الاسباب لفت یا نفرت ڈالنا کس کا کام ہے؟؟ ؍؍؍؍؍؍؍؍
یہ اللہ کی صفت خاصہ میں سے ہے۔
۱ٍ۔۔۔۔أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [٨:٦٣]
اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے
(کس نے محبت پیدا کی؟) سوچیے
۲۔۔۔۔ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (۵:۱۴)آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بغض و عناد کا بیج بو دیا،
(مافوق الاسباب نفرت کس نے پیدا کر دی) سوچیے
۳۔۔۔۔ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (۴:۶۴) اور ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت تک کے لئے ڈال دی۔
(مافوق الاسباب یہ نفرت ڈالنے والا کون) سوچیے
اللہ اپنے نبی ؐ سے کہتے ہیں کہ اگر زمین کے تمام وسائل بروئے کار لے آئے تب بھی صحابہ کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے۔
شرک سے خود کو بچائیں کیونکہ شرک کی موجودگی میں سارے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔توحید کو سمجھیے اور جادو جو کفر و شرک ہے اس کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ شرک جیسے بڑے گناہ سے بچ سکیں۔
انا مسلم
ہاروت وماروت ملائکہ نہیں تھے اور نہ اللہ کی طرف سے لوگوں کو سحر کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔اللہ فرماتے ہیں کہ(فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ )۲:۱۰۲
(پس وہ لوگ ان دونوں سے وہ چیز سیکھنا چاہتے تھے جس کے زریعے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جادو سے میاں بیوی میں جدائی ڈالی جاسکتی ہے بلکہ ان کا گھٹیاپن اورخباثت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے باطل خیال میں وہ چیز سیکھنا چاہتے تھے کہ جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال سکیں۔اس لئے اللہ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا(وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ) اور وہ (جادوگر)اس(جادو)سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے مگر (تکلیف قانون اسباب کے تحت مشیت الہی کے ساتھ) اللہ کے حکم سے پہنچتی ہے۔ یہاں الاِ استثنا منقطع ہے،متصل نہیں ہے۔مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو جو نقصان بھی پہنچتا ہے وہ اللہ کے اذن و مشیت اور قضا سے پہنچتا ہے۔کوئی بھی مخلوق اسباب کے بغیر کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی ہے اور نہ کوئی جادوگر اپنے جادو سے کسی کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ نفع اور نقصان پہنچانے اور سارے کے سارے اختیارات صرف اللہ ہی کے پاس ہیں۔ بَل لِّلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا ۱۳:۳۰
(بلکہ تمام(اختیارات)اللہ کے پاس ہیں)
اذن کے معنی اللہ کے حکم اور قانون کے ہیں۔اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہےکہ جادوگر ’’باذن اللہ‘‘ یعنی اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے لوگوں کو مافوق الاسباب اپنے جنتر منتر سے نقصان پہنچا سکتاہے یا مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال سکتاہے تو یہ غلط سمجھتا ہے کیونکہ اللہ نے سحر کو کفر،شیطانی فعل،جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے۔اب اگر اللہ خود ہی اس کے کرنے کا حکم دے اور ساتھ ہی اس کے ذریعے نقصان پہنچانے کا اختیار بھی دے تو پھر اس کا کرنا اور اس کے زریعے نقصان پہنچانا اللہ کے حکم کی تعمیل ہوگی اور یہ کام باعث ثواب ہوگا نہ کہ کفر اور قابل مواخذہ۔
اللہ کہتے ہیں ۱۸:۲۶ ’’وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا‘‘ تو پھر جادوگر کو کیسے شریک بنا لیا؟
اللہ کہیتے ہیں ۲۰:۶۹ ’’جادوگر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوگا‘‘
اگر بالفرض اللہ جادو میں اثر ڈال کر اس کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچائے تو پھر تو جادوگر اپنی مراد کو پہنچ گیا جب کہ یہ بات درجہ بالا آیت کے خلاف ہے۔
دل میں مافوق الاسباب لفت یا نفرت ڈالنا کس کا کام ہے؟؟ ؍؍؍؍؍؍؍؍
یہ اللہ کی صفت خاصہ میں سے ہے۔
۱ٍ۔۔۔۔أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [٨:٦٣]
اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے
(کس نے محبت پیدا کی؟) سوچیے
۲۔۔۔۔ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (۵:۱۴)آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بغض و عناد کا بیج بو دیا،
(مافوق الاسباب نفرت کس نے پیدا کر دی) سوچیے
۳۔۔۔۔ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (۴:۶۴) اور ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت تک کے لئے ڈال دی۔
(مافوق الاسباب یہ نفرت ڈالنے والا کون) سوچیے
اللہ اپنے نبی ؐ سے کہتے ہیں کہ اگر زمین کے تمام وسائل بروئے کار لے آئے تب بھی صحابہ کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے۔
شرک سے خود کو بچائیں کیونکہ شرک کی موجودگی میں سارے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔توحید کو سمجھیے اور جادو جو کفر و شرک ہے اس کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ شرک جیسے بڑے گناہ سے بچ سکیں۔
انا مسلم
No comments:
Post a Comment