Thursday, 26 February 2015


اور سب مل کر اللہ کی رسی(قران) کو مظبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا.آل عمران103 
لیکن دوسری طرف عالم یہ ہے کہ اللہ کی رسی کو یکجہتی اور مظبوطی سے پکڑنے کی بجائے ہماری یہ قوم گروہوں،فرقوں میں بٹ کر رہ گئی ہے. آئمہ کے نام سے اپنے لئے الگ الگ مسالک اور مذاہب بنا لئے گئے ہیں. کسی کے ہاں بارہ امام معصوم ہیں تو کہی چار اماموں کو اہمیت دی گئی ہے. ان میں کوئی اپنے آپ کو حنفی کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے، کسی نے شافعی کہلانے کو اچھا سمجھا. کوئی اس پر خوش ہے کہ وہ مالکی ہے تو کوئی حنبلی بن چکا ہے. اللہ کہتے ہیں کہ اس دین کو قائم کرو اور متفرق نہ ہونا. الشوری 13
مگر متحد ہونے کے بجائے کیا ہوا؟کس قدر واضح آیت ہے کہ اللہ نے تمہارا نام پہلے بھی اور اس کتاب میں بھی مسلمین رکھا ہے. الحج 78
مسلم نام جو وحدت کی نشانی تھی ہماری قوم نے اس کو چھوڑ دیا اور مسلم نام معیوب بن کر رہ گیا. اے کاش ہم صرف زبان سے قرآن کی ان آیتوں کو نہیں مانتے بلکہ دل سے تسلیم کرتے اس کے لئے تاویلیں نہیں ڈھونڈتے بلکہ بے چوں وچراں مان لیتے.
انامسلم

کیا جادو با اذن اللہ ھوتا ہے؟ جادو کفر ہے لغت میں اس کے معنی ہیں وہ چیز جسکا سبب پوشیدہ ہو جیسے شعبدہ بازی ہوتی ہے. قرآن نے اسے کفر کہا ہے. اللہ حق کو پسند کرتا ہے اور حق بات کہتا ہے. معجزہ حق ہے اس میں فاعل اللہ ہوتا ہے جبکہ جادو کاریگری ہوتی ہے ہاتھ کی صفائی ہوتی ہے. موسی ع کی چھڑی سے اللہ کے اذن سے کیا ہوا سب کو معلوم ہے یہ سب اللہ کے اذن سے ہوا. ساحروں نے جو صنعت کاری کی تھی وہ ان کی اپنی تدبیر تھی جو ناکام ہوئی اور اللہ نے کہا پھر جادوگر جہاں سے بھی آ جاے فلاح نہیں پا سکتے. جادو جو کفر ہے اس کی نسبت اللہ سے کرنا کہ جادو بھی اللہ کے اذن سے ہے انتہائی خطرناک بات ہے. اللہ کے اذن سے کفر؟؟ اگر مان لیا جاے کہ جادو بھی بااذن اللہ جیسا کہ معجزہ بااذن اللہ تو پھر جادو اور معجزہ میں فرق کیا رہا؟ حق اور باطل میں فرق رہا؟ نبی اور جادوگر میں کیا فرق رہا؟ معجزہ حق ہے جبکہ جادو بناوٹ صنعت جھوٹ فریب اور شعبدہ بازی ہے. جادو میں اسباب استعمال ہوتے ہیں تاکہ جھوٹ کو سچ کی طرح دکھا دے اور معجزہ مافوق الاسباب ہوتا ہے

                    وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ 

جادو کے مافوق الاسباب تاثیر کے قائلین کا کہنا ہے اس آیت سے جادو کی تاثیر ثابت ہے۔ اللہ تعالی کا ارشادہے(( وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّه))ِ ۱۳:۳۸ اور کسی رسول کی بھی طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا 

اب جادوکی تاثیر کے قائل
ین سے ہمدردانہ گذارش ہے کہ وہ بتلائیں کہ نبی اور ساحر میں،معجزہ اور سحر میں فرق کیا رہا؟ نبی معجزہ باذن اللہ دکھاتا ہے اور ساحر سحر باذن اللہ دکھاتا ہے۔معجزہ میں اثر باذن اللہ اور جادو میں اثر باذن اللہ ،نبی اور نبی کا معجزہ حق ہے،جادوگر اور اس کا جادو باطل ،جبکہ یہ دونوں باذن اللہ۔۔۔۔۔؟دراصل الا جو حرف استثناٗ ہے دوطرح سے استعمال ہوتا ہے۔منقطع اور متصل۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۰۲ میں الا منقطع ہے ۔ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ آیت کے پہلے حصے میں میں سحر کی تاثیر کی نفی ہے،یعنی ساحر جادو سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اورالا باذن اللہ میں اللہ کی ذات کا استثنا ہے جس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جادوگر اپنے جادو سے کسی کو بھی تکلیف ونقصان نہیں پہنچا سکتے مگر جب کبھی کسی کو نقصان و ضرر پہنچتا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے پہنچتا ہے،نہ کہ جادو سے۔

ایک اور مثل
وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۶:۸۰
الا منقطع کی یہ ایک اور مثال ہے
((ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے کہا)میں تمہارے ٹہراے ہوے شریکوں سے نہیں ڈرتا،ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے )

سورہ بقرہ کی آیت کی طرح اگر یہاں بھی جادو کے قائلین یہ سمجھ بیٹھیں کہ جادوکی تاثیر کےساتھ انہیں یہ بھی ماننا پڑےگا کہ باوجود شرک ہونے کے بت،مورتی،قبرآستانہ سے بھی باذن اللہ ہو سکتا ہے۔اگر جادو کے قائلین یہاں باذن اللہ نقصان کے قائل نہیں تو 


سورہ بقرہ ۱۰۲ میں جادو سے باذن اللہ نقصان کا عقیدہ کیوں
؟




+923459123310
                                                                جادو اور فرشتے 

(۱)اگر سحر ان دو فرشتوں پر نازل کیاگیاتھا تو لامحالہ نازل کرنے والاالله تھا اور یہ جائز نہیں ہے کیوں کہ سحر کفروعبث ہے۔اللہ کے لائق نہیں ہے کہ ایسی چیز کو نازل کرے۔ 

(۲) قرآن بتاتا ہے(وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ) لیکن شیطانوں نےکفر کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے 
۔اس بات پر دلیل واضح ہے کہ سحر کی تعلیم کفر ہے۔اگر ثابت ہو جائے کہ ملائکہ سحر کی تعلیم دیتے تھے تو ان پر کفر لازم آئے گا اور یہ باطل ہے۔ملائکہ کے متعلق ایسا اعتقاد رکھنا کفر ہے۔

(۳) جس طرح انبیا کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ سحر کے لئے مبعوث کئے جائیں ،اسی طرح فرشتوں کا تعلیم سحر کے لئے نازل ہونا جائز نہیں۔

(۴)سحر کی نسبت سوائے کفر،فساق اور شریر شیاطین کے اور کسی کی طرف نہیں کی جاسکتی۔پھر بھلا اس کی نسبت اللہ کی طرف کیسے کی جاسکتی ہے جو اس سے منع کرنے والا ہے اور کرنے والے کو جس نے سزاکی تعزیر دی ہے اور کیا سحر سوائے باطل کے کچھ اور بھی ہے؟اورکیا اللہ کی عادت اس قسم کے باطل کو ختم کرنے میں نہیں ہے؟جیسا کہ موسیؑ کے قصے میں اس نے فرمایا:جوچیزتم لائے ہو وہ سحرہے،بےشک اللہ اسے عنقریب ختم کر دےگا: 
کیا جادو اللہ نے نازل کیا ہے؟ کیا جادو فارشتوں پر اترا ہے؟ کیا ملائكه جادو کی تعلیم دیتے تھے؟

۱۔ایک طرف تو اللہ اس جادو کو کفر قرار دیتا ہے جیسے (وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ) تو دوسری طرف یہ کہنا کیسے درست ہوگا کہ خود اللہ نے فرشتوں کو حکم کیا ہو کہ لوگوں کو جادو سکھائیں۔ تعالی اللہ عن ذالک

۲۔اللہ واضح طور پر فرماتاہے کہ (وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ) یعنی کہ کفر شیاطین نے کیا جو لوگوں سکھایا کرتے تھے۔ پھر ایسی باتوں کے لیے اللہ فرشتوں کو حکم کرے یہ ناممکن ہے۔
۳۔آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جادو سکھانا خود کفر ہے پھر ایسا کام اپنے فرشتوں سے کیسے لے سکتا ہے حالاں کہ وہ مقدس اورپاک مخلوق ہیں۔
۴۔فَلَا تَكْفُرْ جب اللہ کی طرف سے سکھاتے ہیں تو پھر اس کی نفی سے کیا مقصد۔

۵۔جس کام کواللہ غلط قراردے اور مرتکبین کے لیے آخرت میں جس کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ کام پھر اللہ کے فرشتے سکھائیں یا ان کی طرف وہ حکم نازل کیا جائے،یہ بات بعید ازقیاس ہے۔

۶۔جادو کفر ہے تو کیا فرشتے کفر سکھا تے تھے(استغفراللہ) اور کفر فرشتوں پر نازل ہوا؟ جبکہ اللہ کہتے ہیں(مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذًا مُّنظَرِينَ [١٥:٨]
ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی
کیا جادو اللہ نے نازل کیا ہے؟ کیا جادو فارشتوں پر اترا ہے؟ کیا ملائكه جادو کی تعلیم دیتے تھے؟

۱۔ایک طرف تو اللہ اس جادو کو کفر قرار دیتا ہے جیسے (وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ) تو دوسری طرف یہ کہنا کیسے درست ہوگا کہ خود اللہ نے فرشتوں کو حکم کیا ہو کہ لوگوں کو جادو سکھائیں۔ تعالی اللہ عن ذالک

۲۔اللہ واضح طور پر فرماتاہے کہ (وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ) یعنی کہ کفر شیاطین نے کیا جو لوگوں سکھایا کرتے تھے۔ پھر ایسی باتوں کے لیے اللہ فرشتوں کو حکم کرے یہ ناممکن ہے۔
۳۔آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جادو سکھانا خود کفر ہے پھر ایسا کام اپنے فرشتوں سے کیسے لے سکتا ہے حالاں کہ وہ مقدس اورپاک مخلوق ہیں۔
۴۔فَلَا تَكْفُرْ جب اللہ کی طرف سے سکھاتے ہیں تو پھر اس کی نفی سے کیا مقصد۔

۵۔جس کام کواللہ غلط قراردے اور مرتکبین کے لیے آخرت میں جس کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ کام پھر اللہ کے فرشتے سکھائیں یا ان کی طرف وہ حکم نازل کیا جائے،یہ بات بعید ازقیاس ہے۔

۶۔جادو کفر ہے تو کیا فرشتے کفر سکھا تے تھے(استغفراللہ) اور کفر فرشتوں پر نازل ہوا؟ جبکہ اللہ کہتے ہیں(مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذًا مُّنظَرِينَ [١٥:٨]
ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی
سحر کچھ نہیں کر سکتا؟ 

ہاروت وماروت ملائکہ نہیں تھے اور نہ اللہ کی طرف سے لوگوں کو سحر کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔اللہ فرماتے ہیں کہ(فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ )۲:۱۰۲ 
(پس وہ لوگ ان دونوں سے وہ چیز سیکھنا چاہتے تھے جس کے زریعے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں) 

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جادو سے میاں بیوی میں جدائی ڈالی جاسکتی ہے بلکہ ان کا گھٹیاپن اورخباثت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے باطل خیال میں وہ چیز سیکھنا چاہتے تھے کہ جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال سکیں۔اس لئے اللہ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا(وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ) اور وہ (جادوگر)اس(جادو)سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے مگر (تکلیف قانون اسباب کے تحت مشیت الہی کے ساتھ) اللہ کے حکم سے پہنچتی ہے۔ یہاں الاِ استثنا منقطع ہے،متصل نہیں ہے۔مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو جو نقصان بھی پہنچتا ہے وہ اللہ کے اذن و مشیت اور قضا سے پہنچتا ہے۔کوئی بھی مخلوق اسباب کے بغیر کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی ہے اور نہ کوئی جادوگر اپنے جادو سے کسی کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ نفع اور نقصان پہنچانے اور سارے کے سارے اختیارات صرف اللہ ہی کے پاس ہیں۔ بَل لِّلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا ۱۳:۳۰
(بلکہ تمام(اختیارات)اللہ کے پاس ہیں)
اذن کے معنی اللہ کے حکم اور قانون کے ہیں۔اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہےکہ جادوگر ’’باذن اللہ‘‘ یعنی اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے لوگوں کو مافوق الاسباب اپنے جنتر منتر سے نقصان پہنچا سکتاہے یا مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال سکتاہے تو یہ غلط سمجھتا ہے کیونکہ اللہ نے سحر کو کفر،شیطانی فعل،جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے۔اب اگر اللہ خود ہی اس کے کرنے کا حکم دے اور ساتھ ہی اس کے ذریعے نقصان پہنچانے کا اختیار بھی دے تو پھر اس کا کرنا اور اس کے زریعے نقصان پہنچانا اللہ کے حکم کی تعمیل ہوگی اور یہ کام باعث ثواب ہوگا نہ کہ کفر اور قابل مواخذہ۔

اللہ کہتے ہیں ۱۸:۲۶ ’’وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا‘‘ تو پھر جادوگر کو کیسے شریک بنا لیا؟

اللہ کہیتے ہیں ۲۰:۶۹ ’’جادوگر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوگا‘‘

اگر بالفرض اللہ جادو میں اثر ڈال کر اس کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچائے تو پھر تو جادوگر اپنی مراد کو پہنچ گیا جب کہ یہ بات درجہ بالا آیت کے خلاف ہے۔

دل میں مافوق الاسباب لفت یا نفرت ڈالنا کس کا کام ہے؟؟ ؍؍؍؍؍؍؍؍
یہ اللہ کی صفت خاصہ میں سے ہے۔
۱ٍ۔۔۔۔أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [٨:٦٣]
اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے
(کس نے محبت پیدا کی؟) سوچیے
۲۔۔۔۔ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (۵:۱۴)آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بغض و عناد کا بیج بو دیا،
(مافوق الاسباب نفرت کس نے پیدا کر دی) سوچیے

۳۔۔۔۔ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (۴:۶۴) اور ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت تک کے لئے ڈال دی۔
(مافوق الاسباب یہ نفرت ڈالنے والا کون) سوچیے

اللہ اپنے نبی ؐ سے کہتے ہیں کہ اگر زمین کے تمام وسائل بروئے کار لے آئے تب بھی صحابہ کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے۔

شرک سے خود کو بچائیں کیونکہ شرک کی موجودگی میں سارے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔توحید کو سمجھیے اور جادو جو کفر و شرک ہے اس کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ شرک جیسے بڑے گناہ سے بچ سکیں۔
انا مسلم