Wednesday, 9 July 2014


"اور (جادوگر) اس (جادو)سے کسی کو بھی کوئی نقصان نہیں  پہنچا سکتے تھے مگر (تکلیف قانون اسباب کے تحت مشیت الہی کے ساتھ) اللہ کے حکم سے پہنچتی ہے"

یہاں "الا" استثنا منقظع ہے،یہ متصل نہیں ہے۔مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو جو نقصان بھی پہنچتا ہے وہ اللہ کے اذن ومشیت اور فیصلہ سے پہنچتا ہے۔ کوئی بھی مخلوق اسباب کے بغیر کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے اور نہ کوئی جادوگر اپنے جادو سے کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ نفع اور نقصان پہنچانے اور سارے کے سارے اختیارات صرف اللہ ہی کے پاس ہے ۔ ""بلکہ تمام (اختیارات) اللہ کے پاس ہے" (قران)

"اذن کی وضاحت"

اذن کے معنی اللہ کے حکم کے اور قانون کے ہیں۔اب اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ  کہ جادو گر "بااذن اللہ " یعنی اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے لوگوں کو مافوق الاسباب اپنے جنتر منتر سے نقصان  پہنچا سکتا ہے یا مرد اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال سکتا ہے تو یہ غلط سمجھتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے سحر کو کفر ،شیطانی فعل ،جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے ۔اب اگراللہ خود ہی کرنے کا حکم دے اور ساتھ ہی اس کے ذریعہ نقصان پہنچانے کہ اختیار بھی دے تو پھر اس کا کرنا اور اس کے ذریعہ نقصان پہنچا نا اللہ کے حکم کی تعمیل ہوگی اور یہ کام باعث ثواب ہوگا نہ کہ کفر۔



جب اللہ کا فرمان ہے کہ"وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا " تو پھر جادوگر کو کیسے شریک بنا لیا؟؟


اللہ کہتے ہیں کہ"جادوگر جہاں سے بھی آجائے کامیاب نہیں ہو سکتے" اگر بالفرض محال جادو میں اثر ڈال کر اس کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچا ئے  تو جادوگر اپنی مراد کو پہنچ گیا جب کہ یہ بات درج بالاآیت کے خلاف ہے۔

قرآن لاریب ہے اس نے بتا دیا کہ جب یہ جادوگر کامیاب نہیں ہو سکتے  اور یہ اللہ خود کہ رہے ہیں اور دوسری طرف بقول آپ کے اس میں اللہ کے اذن سے اثر ہے تو یہ تضاد نہیں ہے تو اور کیا ہے؟؟؟ www.islaheeman.com  03459123310